بھٹکل:29/جون (ایس اؤنیوز) سال 2010اکتوبر23کو مرڈیشور کے ہیرے دومی میں ایک نوجوان لڑکی کی عصمت دری کے بعد ہوئے قتل معاملے کے ملزم وینکٹیش ہری کنتر پر الزام ثابت کرنے میں پراسی کیوشن ناکام ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے، خبر ملی ہے کہ ملزم کو ضلعی عدالت نے بے قصور قرار دیا ہے۔
خیال رہے کہ سات سال قبل ایک لڑکی کی لاش مسلم کمپائونڈ کے اندر لکڑیاں جمع کرنے والی جگہ پرمشکوک حالت میں پائی گئی تھی، حالانکہ اُس وقت گھر کے لوگ کسی شادی کی تقریب میں گئے ہوئے تھے اور گھر کافی دنوں سے بند تھا، مگر شدت پسند تنظیم کے کارکنوں نے لڑکی کے قتل پر نہ صرف پورے مکان کو نشانہ بنایا تھا، بلکہ اطراف کے کئی گھروں پر بھی پتھرائو کرکے ماحول کو بگاڑنے کی کوشش کی تھی، بعد میں اُس وقت کے ایس پی رمن گپتا کی قیادت میں بھٹکل ڈی ایس پی ایم نارائن اور مینگلور ڈی ایس پی جینت شٹی نے کافی چھان بین کے بعد وینکٹیش نامی ایک ماہی گیر کو گرفتار کرتے ہوئے معاملہ حل کئے جانے کی بات کہی تھی۔
معاملے کی سنوائی کرتے ہوئے ضلعی عدالت نے 51گواہوں کے بیانات درج کئے تھے، مگر اب بتایا گیا ہے کہ لڑکی کے جسم میں پائی گئی منی کو ملزم کی منی ثابت کرنا ممکن نہ ہونے سے معاملے کی تفتیش کو بڑانقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیاہے۔ خبر ملی ہے کہ حیدرآباد کے ڈی این کے ماہر ڈاکٹر پرساد نے خود عدالت میں حاضر ہوکر بیان دیا کہ یہ منی وینکٹیش کی نہیں ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وینکٹیش کے سینہ پر موجود زخم کے بارے میں یہ کہنا ممکن نہیں ہے کہ یہ مہلوک لڑکی کے ناخن سے ہی ہوئے ہیں، ان کے مطابق ہوسکتاہے کہ یہ زخم ماہی گیری کام کے دوران ہوئے ہوں۔ ڈاکٹر نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ مہلوک لڑکی کی مباشرت پہلی بار نہیں ہے۔ پولس مہلوک لڑکی کے ہاتھوں میں ملے 2سرکے بال بھی وینکٹیش کے ثابت کرنےمیں ناکام ہوئی ہے۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق پوسٹ مارٹم کرنے والے منی پال کے ڈاکٹر شنکر بکننور نے بھی مہلوک لڑکی کے ناخن نہ بڑھنے کی بات کہی ہے۔پولس نے ملزم وینکٹیش ہری کنتر کے سینہ پر پائے گئے جس چمڑے کوضبط کیا تھا ڈی این اے ٹسٹ میں مہلوک لڑکی کا ہی چمڑا ثابت ہونے کے باوجود ملزم کے وکیل نے عدالت میں بتایا کہ لڑکی کے چمڑےکے ساتھ ملزم وینکٹیش کا چمڑا شامل نہیں ہے۔مہلوک لڑکی کا باپ ملزم وینکٹیش ہری کنتر کے بجائے جس گھر میں واقعہ پیش آیا تھا اس کے مالک صادق دونے اور دیگر افراد پر دائر کی گئی شکایت کو سنوائی کے دوران شمار کیا گیا ہے۔ ملزم کی طرف سے کنداپور کے مشہور وکیل روی کرن مرڈیشور نے پیروی کی تھی ۔
بھٹکل پولس کی پیشہ ورانہ مہارت پر سوال : مجرمانہ کارستانیوں پر قدغن لگانے میں بھٹکل دیہی ، شہری اور مرڈیشور پولس تھانہ سمیت بھٹکل پولس کی پیشہ ورانہ مہارت پر عدالت کے فیصلے سے سوالیہ نشان لگ گیاہے۔ گرفتار ی کے بعد پولس نے کہا تھا کہ ہم نے بہت ہی سائنٹفک اندازمیں تفتیش کرکے ملزم کاپتہ لگایا ہے۔ اس کے بائوجود عدالت میں پولس کے بیانات، دستاویزات، اور کارکردگی سے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ پولس کے درمیان ڈاکٹروں کی یہ رائے بھی گردش کرتی رہی ہے کہ لڑکی کے جسم میں پائی گئی منی قریب 60-72گھنٹے پہلے کی ہے۔ یعنی لڑکی کا قتل ہونے سے 24 تا 36گھنٹے پہلے ہی کسی اور کی منی شامل ہوگئی تھی ؟
سوال یہ ہے کہ اس منی کا اور قتل کا جب کوئی تعلق ہی نہیں تھا تو پھر پولس نے اس رخ پر تفتیش کیوں نہیں کی۔ اس کو جانچ رپورٹ میں شامل کرکے ملزم کے قتل کو ثابت کرنے پر کیوں توجہ نہیں دی گئی ؟ اس کے علاوہ عصمت دری اورقتل معاملات میں گرفتار کئے گئے ملزم کابے قصور ثابت ہونا بھٹکل میں یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل بھٹکل کے منڈلی میں ایک خاتون کا گلہ دبا کر اور مٹی کا تیل چھڑک کر قتل کیا گیا تھا اس معاملے کو لے کر بھی پولس عدالت میں ناکام ہوچکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھٹکل پولس کے روئے کو لے کر عوام مطمئن نہیں ہیں۔